Browse By

’طالبان کودھچکا لگے گا مگر خاص اثر نہیں ہوگا‘

عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن کی ہلاکت سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم شدت پسندوں تنظمیوں کو ایک ذہنی دھچکا تو ضرور لگا ہے لیکن بظاہر لگتا ہے کہ اس ہلاکت سے ان کی سرگرمیوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑ سکتا۔

مقامی طالبان کی مختلف تنظیموں نے اُسامہ کی ہلاکت پر اپنے دُکھ اور درد کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اس ہلاکت سے ان کے تنظمیوں کا مضبوط یا کمزور ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مقامی طالبان سے بات کرتے ہوئے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کو یہ علم بھی نہیں کہ کیا اُسامہ زندہ تھے یا بہت پہلے مر چکے تھے۔ مقامی طالبان کے بہت سارے جنگجوگزشتہ دس گیارہ برسوں میں اُسامہ سے ملے ہیں اور نہ ہی ان کو القاعدہ کے نظریات کا کچھ علم ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کے نائب ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اُسامہ بن لادن کہاں ہیں اور نہ ہی انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی اُسامہ سے ملاقات کی ہے۔‘
مُلا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں تھا کہ اُسامہ زندہ ہیں لیکن ان کے گروپ کا ان لوگوں سے کوئی رابط نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اُسامہ واقعی ہلاک ہوئے ہیں تو یہ بہت بڑی دُکھ کی بات ہے لیکن ان کی ہلاکت سے کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان کی کئی تنظیموں کے علاوہ القاعدہ؛ پنجابی طالبان اور افغان طالبان کے سینکڑوں جنگجو موجود ہیں۔ان تنظیموں اور القاعدہ کے نظریات اور خیالات میں بھی کچھ فرق پایا جاتا ہے۔
بعض مبصرین کے خیال میں القاعدہ ایک بین الااقوامی تنظیم ہے جس کے پیروکار پوری دُنیا میں موجود ہیں اور اس کا ایک فنڈ ہوتا ہے۔ اس تنظیم کی دلچسپیاں افغانستان اور پاکستان کی نسبت اسرائیل اور فلسطین میں زیادہ ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ القاعدہ کے جنگجو افغانستان اور پاکستان کو صرف ایک پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
اس طرح پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی جو تنظمیں ہیں ان کی سوچ اور فکر زیادہ تر پاکستان اور افغانستان تک محدود ہے۔ وہ اسرائیل اور فلسطین کا ذکر تو کرتے ہیں۔لیکن ان کی دلچسپیاں ان علاقوں میں کم ہے۔تاہم ایک بات ضرور ہے کہ قبائلی علاقوں میں القاعدہ کی موجودگی سے مقامی طالبان کو ایک بین الاقوامی حثیت مل گئی ہے۔جس کی وجہ سے القاعدہ کے علاوہ مقامی طالبان بھی امریکہ اور اتحادیوں کے نشانہ پر ہے۔
بعض مبصرین کے خیال میں القاعدہ کی طرف سے مقامی طالبان کو کسی قسم کا کوئی سپیشل فنڈ یا مالی امداد نہیں ملتا بلکہ مقامی طالبان ان اخراجات کو دوسرے ذرائع سے خود پورے کرتے ہیں۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ القاعدہ کے ساتھ افغان طالبان کے روابط پاکستانی طالبان کے نسبت زیادہ مضبوط ہے۔ اس لیےاسامہ کی ہلاکت سے پاکستان شدت پسندوں پر زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔
مبصرین کے خیال میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان نے القاعدہ کو پناہ دی ہے۔اور ان کی حفاظت کے لیے قربانیاں بھی دی ۔القاعدہ کے مکمل خاتمے سے مقامی طالبان کی بھی بین الاقوامی حیثیت تو ختم ہوجائےگی۔لیکن صرف اُسامہ کے ہلاکت سے ان تنظیموں پر کچھ خاص اثر نہیں پڑیگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *