Browse By

’پاکستان مدد فراہم کرنے والوں کا پتہ چلائے‘

امریکی صدر براک اوباما نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کے بارے میں تحقیقات کرے جس نے اسامہ بن لادن کو ان کی پناہ گاہ میں رہنے کے لیے معاونت کی جہاں انہیں ہلاک کیا گیا۔

امریکی صدر براک اوباما نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کے بارے میں تحقیقات کرے جس نے اسامہ بن لادن کو ان کی پناہ گاہ میں رہنے کے لیے معاونت کی جہاں انہیں ہلاک کیا گیا۔
صدر اوباما نے سی بی ایس ٹی وی شو ’60 مِنٹس‘ (ساٹھ منٹ) میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت کو معلوم کرنا ہوگا کہ کیا اس کے کسی اہلکار کو اسامہ بن لادن کے بارے میں علم تھا یا نہیں۔
اتوار کو نشر ہونے والے اس انٹرویو میں صدر اوباما نے کہا کہ القاعدہ کے سربراہ کو یقیناً پاکستان میں ’کسی نیٹ ورک کی مدد حاصل رہی ہوگی‘ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اس میں پاکستانی اہلکار شامل ہیں یا نہیں۔
’ہمیں نہیں معلوم ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو پاکستان کی حکومت میں ہیں، حکومت سے باہر کے لوگ ہیں، اور یہ ہی ہے کہ جس کی ہمیں تحقیقات کرنا ہیں اور سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان کو اس بارے میں تحقیقات کرنا چاہیے‘۔
دریں اثناء امریکی قومی سلامتی کے مشیر ٹام ڈونیلن نے ایک اور ٹی وی چینل این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس بات کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے کہ اسامہ بن لادن کس طرح چھ برس تک اسلام آباد سے کچھ مسافت پر ایبٹ آباد کی ملٹری اکیڈمی کے بغل میں رہائش پذیر رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام اسامہ کی بیواؤں سے بات کرنا چاہتے ہیں جو پاکستانی حکام کی تحویل میں ہیں۔
واضح رہے کہ اتوار کو ایک امریکی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر ٹام ڈونیلن کا کہنا تھا کہ تاحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے کہ پاکستانی حکام جانتے تھے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں قیام پذیر ہے۔
پاکستان اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اسے معلوم تھا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *